الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
الْبَابُ الأَوَّلُ فِيمَا جَاءَ فِي حُرْمَتِهَا وَحَرَمِهَا باب: مدینہ منورہ کے فضائل کے ابواب باب اول: مدینہ منورہ کی حرمت او راس کے حرم ہونے کا بیان
عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ سَعْدًا رَكِبَ إِلَى قَصْرِهِ بِالْعَقِيقِ فَوَجَدَ غُلَامًا يَخْبِطُ شَجَرًا أَوْ يَقْطَعُهُ فَسَلَبَهُ فَلَمَّا رَجَعَ سَعْدٌ جَاءَهُ أَهْلُ الْغُلَامِ فَكَلَّمُوهُ أَنْ يَرُدَّ مَا أَخَذَ مِنْ غُلَامِهِمْ فَقَالَ مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ أَرُدَّ شَيْئًا نَفَّلَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبَى أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْعامر بن سعد سے روایت ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سواری پر سوار ہو کر وادیٔ عقیق میں واقع اپنے محل کی طرف جارہے تھے، انہوں نے ایک لڑکے کو دیکھا جو درختوں کے پتے جھاڑ رہا تھایاکاٹ رہا تھا، انہوں نے اس کا سازو سامان چھین لیا، جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ واپس آئے تو اس لڑکے کی برادری کے لوگوں نے آکر درخواست کی کہ انہوں نے اس لڑکے کا جو سامان قبضے میں لیا ہے، وہ اسے واپس کر دیں، لیکن انہوں نے کہا: اللہ کی پناہ، ایسا نہیں ہوسکتا کہ جو چیز اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دی ہو، میں وہ واپس کر دوں اور انہوں نے وہ سامان واپس کرنے سے انکار کردیا۔