الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
الْبَابُ الأَوَّلُ فِيمَا جَاءَ فِي حُرْمَتِهَا وَحَرَمِهَا باب: مدینہ منورہ کے فضائل کے ابواب باب اول: مدینہ منورہ کی حرمت او راس کے حرم ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 12612
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”حَرَّمَ اللَّهُ عَلَى لِسَانِي مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ“ ثُمَّ جَاءَ بَنِي حَارِثَةَ فَقَالَ ”يَا بَنِي حَارِثَةَ مَا أَرَاكُمْ إِلَّا قَدْ خَرَجْتُمْ مِنَ الْحَرَمِ“ ثُمَّ نَظَرَ فَقَالَ ”بَلْ أَنْتُمْ فِيهِ بَلْ أَنْتُمْ فِيهِ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مدینہ کے دو حرّوں کے درمیان والی جگہ کو میری زبان کے ذریعے حرم قرار دیا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنو حارثہ کے ہاں گئے اور فرمایا: بنو حارثہ! میرا خیال ہے کہ تمہاری سکونت حرم سے باہر ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غور سے دیکھا اور فرمایا: نہیں،نہیں، تم حرم کے اندر ہی ہو، تم حرم کے اندر ہی ہو۔