الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
الْبَابُ الأَوَّلُ فِيمَا جَاءَ فِي حُرْمَتِهَا وَحَرَمِهَا باب: مدینہ منورہ کے فضائل کے ابواب باب اول: مدینہ منورہ کی حرمت او راس کے حرم ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 12610
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”لِكُلِّ نَبِيٍّ حَرَمٌ وَحَرَمِي الْمَدِينَةُ، اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُهَا بِحُرَمِكَ، أَنْ لَا يُؤْوَى فِيهَا مُحْدِثٌ، وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا، وَلَا يُعْضَدُ شَوْكُهَا، وَلَا تُؤْخَذُ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ.“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کا کوئی نہ کوئی حرم ہوتا ہے اور میرا حرم مدینہ ہے، اے اللہ! میں اسے آپ کی اجازت سے حرم قرار دیتا ہوں، کوئی بدعتی یا گناہ گار یہاں پناہ نہ لے سکے، یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں اور نہ گھاس کاٹی جائے اور اعلان کرنے والے کے علاوہ کسی دوسری کے لیے یہاں کی گری ہوئی چیز اٹھانے کی اجازت نہیں۔