الفتح الربانی
كتاب الإيمان و الإسلام— ایمان اور اسلام کی کتاب
بَابٌ فِي حُكْمِ الْإِقْرَارِ بِالشَّهَادَتَيْنِ وَ أَنَّهُمَا تَعْصِمَانِ قَائِلَهُمَا مِنَ الْقَتْلِ وَ بِهِمَا يَكُونُ مُسْلِمًا وَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ باب: دونوں شہادتوں کا اقرار کرنے والے کا حکم اور اس امر کا بیان کہ یہ دونوں آدمی کو قتل سے بچاتی ہیں اور ان کے ذریعے ہی بندہ مسلمان ہوتا ہے اور جنت میں داخل ہوتا ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: ثَنَا شُعْبَةُ عَنِ النُّعْمَانِ قَالَ: سَمِعْتُ أُوَيْسًا (يَعْنِي بْنَ أَبِي أُوَيْسٍ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ فَكُنَّا فِي قُبَّةٍ فَقَامَ مَنْ كَانَ فِيهَا غَيْرِي وَغَيْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَسَارَّهُ فَقَالَ: اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ، (وَفِي رِوَايَةٍ: فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ دَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) ثُمَّ قَالَ: ((أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ)) قَالَ: بَلَى! وَلَكِنَّهُ يَقُولُهَا تَعَوُّذًا، فَقَالَ: ((رُدُّوهُ)) (وَفِي رِوَايَةٍ: اذْهَبُوا فَخَلُّوا سَبِيلَهُ) ثُمَّ قَالَ: ((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا حَرُمَتْ عَلَيَّ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا)) فَقُلْتُ لِشُعْبَةَ: أَلَيْسَ فِي الْحَدِيثِ ثُمَّ قَالَ: أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَ شُعْبَةُ: أَظُنُّهَا مَعَهَا وَلَا أَدْرِيسیدنا اویس بن ابو اویس ثقفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ثقیف کے وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، ہم ایک قبہ میں تھے، ہوا یوں کہ میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ سارے لوگ چلے گئے، اتنے میں ایک آدمی آیا اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی سرگوشی کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر جا اور اس کو قتل کر دے۔“ ایک روایت میں ہے: جب وہ بندہ جانے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور پوچھا: ”کیا وہ «لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کی گواہی دیتا ہے؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں، لیکن وہ یہ کلمہ تو محض بچنے کے لیے کہتا ہے،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو چھوڑ دو۔“ ایک روایت میں ہے: ”جا اور اس کو جانے دے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس وقت تک لوگوں سے قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جب تک وہ «لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» نہ کہہ دیں، جب وہ یہ کلمہ کہہ دیں گے تو ان کے خون اور مال مجھ پر حرام ہو جاتے ہیں، مگر ان کے حق کے ساتھ۔“ میں (محمد بن جعفر) نے امام شعبہ سے کہا: کیا حدیث کے الفاظ اس طرح نہیں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا وہ «لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ» کی گواہی دیتا ہے۔ انہوں نے کہا: میرا خیال ہے کہ یہ الفاظ بھی تھے، لیکن اب مجھے یاد نہیں ہے۔