حدیث نمبر: 12593
عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: أَتَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ابْنَ الزُّبَيْرِ، وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْحِجْرِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ الزُّبَيْرِ! إِيَّاكَ وَالْإِلْحَادَ فِي حَرَمِ اللَّهِ، فَإِنِّي أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”يُحِلُّهَا، وَيَحُلُّ بِهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ، لَوْ وُزِنَتْ ذُنُوبُهُ بِذُنُوبِ الثَّقَلَيْنِ لَوَزَنَتْهَا.“ قَالَ: فَانْظُرْ أَنْ لَا تَكُونَ هُوَ يَا ابْنَ عَمْرٍو، فَإِنَّكَ قَدْ قَرَأْتَ الْكُتُبَ وَصَحِبْتَ الرَّسُولَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّ هَذَا وَجْهِي إِلَى الشَّامِ مُجَاهِدًا.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سعید بن عمرو سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ، سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، جبکہ وہ حطیم میں تشریف فرما تھے، انھوں نے کہا: اے ابن زبیر! اللہ کے حرم میں قتل و غارت سے بچو، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ایک قریشی آدمی مکہ کی حرمت کو پامال کرے گا، اس کے گناہ اس قدر ہوں گے کہ اگران کا تمام انسانوں اور جنات کے گناہوں سے موازنہ کیا جائے تو اس کے گناہ وزنی ہوں گے۔ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے آگے سے کہا: اے ابن عمرو! خیال کرنا کہ وہ آدمی تم ہی نہ ہو، تم تو کتابیں پڑھے ہوئے ہو اور تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کا شرف بھی حاصل ہے، انہوں نے کہا: میں تم کو گواہ بناتا ہوں کہ میں تو بغرض جہاد شام کی طرف جارہا ہوں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12593
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «رجاله ثقات رجال الشيخين، لكن رفعه كما قال ابن كثير في النھاية قد يكون غلطا، وانما ھو من كلام عبد الله بن عمرو ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7043 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7043»