حدیث نمبر: 12587
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ قَالَ حُذَيْفَةُ وَاللَّهِ لَا تَدَعُ مُضَرُ عَبْدًا لِلَّهِ مُؤْمِنًا إِلَّا فَتَنُوهُ أَوْ قَتَلُوهُ أَوْ يَضْرِبُهُمُ اللَّهُ وَالْمَلَائِكَةُ وَالْمُؤْمِنُونَ حَتَّى لَا يَمْنَعُوا ذَنَبَ تَلْعَةٍ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ أَتَقُولُ هَذَا يَا عَبْدَ اللَّهِ وَأَنْتَ رَجُلٌ مِنْ مُضَرَ قَالَ لَا أَقُولُ إِلَّا مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مضر کے لوگ اللہ کے مومن بندوں کو فتنوں میں ڈالیں گے یا انہیں قتل کر دیں گے، پھر اللہ تعالی، فرشتے اور اہل ایمان ان کی ایسی مار کٹائی کریں گے کہ وہ ذلیل و رسوا ہوکر رہ جائیں گے۔ ایک آدمی نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اے اللہ کے بندے! تم خود مضر سے ہو اور یہ کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے جواباً کہا: میں وہی کہتا ہوں، جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث میں مضر قبیلے کی مذمت بیان کی گئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12587
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23739»