الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
مَا جَاءَ فِي الْأَزْدِ وَ بَنِي تَمِيمٍ باب: بنوازد اور بنو تمیم کے بارے میں وراد احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 12578
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”هَذِهِ صَدَقَةُ قَوْمِي وَهُمْ أَشَدُّ النَّاسِ عَلَى الدَّجَّالِ“ يَعْنِي بَنِي تَمِيمٍ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا كَانَ قَوْمٌ مِنَ الْأَحْيَاءِ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْهُمْ فَأَحْبَبْتُهُمْ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو تمیم کے بارے میں فرمایا: یہ صدقہ میری قوم کی طرف سے ہے اور یہ دجال کے مقابلہ میں سب سے زیادہ سخت ہوں گے۔ سیدنا ابو ہریرہ کہتے ہیں: ا س سے پہلے بنو تمیم کے لوگ مجھے سب سے زیادہ ناپسند تھے، لیکن میں نے جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کے بارے میں یہ فرماتے سنا، تب سے میں ان سے محبت کرتا ہوں۔