حدیث نمبر: 12563
وَعَنِ الْغَضْبَانِ بْنِ حَنْظَلَةَ أَنَّ أَبَاهُ حَنْظَلَةَ بْنَ نُعَيْمٍ وَفَدَ إِلَى عُمَرَ فَكَانَ عُمَرُ إِذَا مَرَّ بِهِ إِنْسَانٌ مِنَ الْوَفْدِ سَأَلَهُ مِمَّنْ هُوَ حَتَّى مَرَّ بِهِ أَبِي فَسَأَلَهُ مِمَّنْ أَنْتَ فَقَالَ مِنْ عَنَزَةَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”حَيٌّ مِنْ هَاهُنَا مَبْغِيٌّ عَلَيْهِمْ مَنْصُورُونَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

حنظلہ بن نعیم سے مروی ہے کہ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے، یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ جب وفد کا کوئی آدمی ان کے پاس سے گزرتا تو وہ اس سے دریافت کرتے کہ وہ کس قبیلہ سے ہے؟ یہاں تک کہ میرے والد سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ کا ان کے پاس سے گزر ہوا، انہوں نے ان سے پوچھا کہ وہ کس قبیلہ سے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں عنزہ قبیلے سے ہوں، یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: یہاں ایک قبیلہ ایسا بھی ہے کہ ان پر ظلم کیا جائے گا، لیکن ان کی تائید و نصرت کی جائے گی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12563
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة الغضبان بن حنظلة وابيه، اخرجه البزار: 337، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 141 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 141»