الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
الْفَضْلُ الثَّانِي فِيْمَا وَرَدَ فِي الْأَزْدِ وَحِمْيَر باب: فصل دوم: قبیلہ ازد اور حمیر کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 12559
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْعَنْ حِمْيَرَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ جَاءَهُ مِنْ نَاحِيَةٍ أُخْرَى فَأَعْرَضَ عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ الْعَنْ حِمْيَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”رَحِمَ اللَّهُ حِمْيَرَ أَفْوَاهُهُمْ سَلَامٌ وَأَيْدِيهِمْ طَعَامٌ أَهْلُ أَمْنٍ وَإِيمَانٍ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، ایک آدمی نے آکر کہا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبیلہ حمیر پر لعنت کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اعراض فرمایا، وہ دوسری طرف سے آگیا اور اس بار بھی یہی بات کہی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبیلہ حمیر پر لعنت فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منہ موڑ لیا اور فرمایا: اللہ قبیلہ حمیر پر رحم فرمائے، ان کے منہ یعنی گفتگو سلامتی والی ہے، ان کے ہاتھ کھانا کھلانے والے ہیں اور یہ لوگ امن و ایمان والے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … قرآن مجید میں جس تبع کا ذکر ہے اس سے مراد قوم سبا ہے، سبا میں حمیر قبیلہ تھا۔