حدیث نمبر: 12552
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ كَبِرْتُ وَلِيَ عِيَالٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ نِسَاءُ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ“ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَلَمْ تَرْكَبْ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ بَعِيرًا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُوسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ إِلَّا قَوْلَهُ وَلَمْ تَرْكَبْ مَرْيَمُ بَعِيرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام بھیجا، لیکن انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں عمر رسیدہ ہوچکی ہوں اور میری کفالت میں بچے بھی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہترین عورتیں جو اونٹ کی سواری کرتی ہیں، وہ قریشی خواتین ہیں، یہ اولاد پر ان کے بچپنے میں ازحد مہربان اور خاوندوں کے اموال کی بہت زیادہ حفاظت کرتی ہیں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدہ مریم بنت عمران نے اونٹ پر کبھی سواری نہیں کی۔

وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ بیوی کی یہ دو خصوصیات انتہائی اہم ہیں: بچوں کے حق میں شفیق ہونا اور خاوند کی امانتوں کی حفاظت کرنا، اور یہی دو خصوصیات ہیں، جن کی وجہ سے گھر میں امن و امان کا دور آ جاتا ہے اور اس گھر والے بلند مقام حاصل کر لیتے ہیں۔ یہی دو خصائل ہیں کہ جن کی بنا پر قریشی عورتوںکی مدح سرائی کی گئی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12552
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5365، ومسلم: 2527 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7650 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7637»