حدیث نمبر: 12549
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”يَا عَائِشَةُ! إِنَّ أَوَّلَ مَنْ يَهْلِكُ مِنَ النَّاسِ قَوْمُكِ.“ قَالَتْ: قُلْتُ: جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ أَبَنِي تَيْمٍ؟ قَالَ: ”لَا، وَلَكِنْ هَذَا الْحَيُّ مِنْ قُرَيْشٍ، تَسْتَحْلِيهِمُ الْمَنَايَا وَتَنَفَّسُ عَنْهُمْ أَوَّلَ النَّاسِ هَلَاكًا.“ قُلْتُ: فَمَا بَقَاءُ النَّاسِ بَعْدَهُمْ؟ قَالَ: ”هُمْ صُلْبُ النَّاسِ فَإِذَا هَلَكُوا هَلَكَ النَّاسُ.“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ!لوگوں میں سے پہلے جو لوگ فنا ہوں گے، وہ تیری قوم کے لوگ ہوں گے۔ سیدہ نے کہا: میں نے کہا: اللہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر فدا کرے، کیا اس سے بنو تیم مراد ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، نہیں، میری مراد یہ قریش ہیں، موتیں ان کو میٹھا سمجھیں گی اور ان کو برگشتہ کریں گی اور یہ سب سے پہلے تباہ ہوں گے۔ میں نے کہا: ان کے بعد باقی رہنے والے کیسے ہوں گے؟ فرمایا: وہ مضبوط لوگ ہوں گے، جب یہ ہلاک ہوجائیں گے توباقی لوگ بھی ہلاک ہو جائیں گے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12549
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن المؤمل، اخرجه البزار: 2789 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24457 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24961»