الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
الْبَابُ الثَّالِثُ فِي خُصُوصِيَّاتِ قُرَيْشٍ وَدُعَاءِ النَّبِيِّ ﷺ لَهُمْ باب: سوم: قریش کے خصالٔص اور ان کے حق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کا بیان
حدیث نمبر: 12548
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”أَسْرَعُ قَبَائِلِ الْعَرَبِ فَنَاءً قُرَيْشٌ، وَيُوشِكُ أَنْ تَمُرَّ الْمَرْأَةُ بِالنَّعْلِ، فَتَقُولَ: إِنَّ هَذَا نَعْلُ قُرَشِيٍّ.“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عرب کے قبائل میں سب سے جلدی ہلاک ہونے والا قبیلہ قریش کاہے، قریب ہے کہ ایک عورت ایک جوتے کے پاس سے گزرے اور کہے: یہ کسی قریشی آدمی کا جوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ممکن ہے کہ جوتے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود قریشیوں کی کوئی علامت یا نشان ہو۔ اس نبوی ارشاد کی مزید وضاحت درج ذیل حدیث سے ہوتی ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَاعَائِشَۃُ قَوْمُکِ أَسْرَعُ أُمَّتِی بِیْ لِحَاقاً۔)) قَالَتْ: فَلَمَّا جَلَسَ قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! جَعَلَنِیَ اللّٰہُ فِدَائَ کَ لَقَدْ دَخَلْتَ وَأَنْتَ تَقُوْلُ کَلَاماً ذَعَّرَنِیْ۔ قَالَ: ((وَمَا ھُوَ؟)) قَالَتْ: تَزْعَمُ أَنَّ قَوْمِیْ أَسْرَعُ أُمَّتِکَ بِکَ لِحَاقاً، قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَتْ: وَمِمَّ ذَاکَ؟ قَالَ: ((تَسْتَحْلِیْھِمُ الْمَنَایَا، وَتَنْفِسُ عَلَیْھِمْ أُمَّتُھُمْ۔)) قَالَتْ: فَقُلْتُ: فَکَیْفَ النَّاسُ بَعْدَ ذٰلِکَ أَوْ عِنْدَ ذٰلِکَ؟ قَالَ: ((دَبًی تَأْکُلُ شِدَادُہٗ ضِعَافَہٗ حَتّٰی تَقُوْمُ عَلَیْھِمُ السَّاعَۃُ۔)) (الصحیحۃ:۱۹۵۳) … اے عائشہ! میری امت میں سے تیری قوم سب سے پہلے مجھے ملنے والی
ہے۔ وہ کہتی ہیں: جب آپ بیٹھ گئے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے‘ آپ تشریف لائے اور ایسی بات کہی ہے جس نے مجھے خوفزدہ کردیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کون سی بات؟ انھوں نے کہا: آپ کہہ رہے تھے کہ آپ کی امت میں سے میری قوم سب سے پہلے آپ سے ملنے والی ہے۔ آپ نے فرمایا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: ایسے کیوں ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: موتیں ان کو میٹھا محسوس کریں گی اور ان کی قوم ان پر حسد کرے گی۔ انھوں نے کہا: تو پھر اس کے بعد یا اس وقت لوگوں کی کیا حالت ہو گی؟ آپ نے فرمایا: ٹڈیوں کی طرح زور دار کمزوروں کو کھا جائیں گے (اور کوئی انصاف کرنے والا نہ رہے گا)، انہی لوگوں پر قیامت برپا ہو جائے گی۔
(مسند احمد: ۶/ ۸۱، ۹۰، صحیحہ: ۱۹۵۳)
ہے۔ وہ کہتی ہیں: جب آپ بیٹھ گئے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے‘ آپ تشریف لائے اور ایسی بات کہی ہے جس نے مجھے خوفزدہ کردیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کون سی بات؟ انھوں نے کہا: آپ کہہ رہے تھے کہ آپ کی امت میں سے میری قوم سب سے پہلے آپ سے ملنے والی ہے۔ آپ نے فرمایا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: ایسے کیوں ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: موتیں ان کو میٹھا محسوس کریں گی اور ان کی قوم ان پر حسد کرے گی۔ انھوں نے کہا: تو پھر اس کے بعد یا اس وقت لوگوں کی کیا حالت ہو گی؟ آپ نے فرمایا: ٹڈیوں کی طرح زور دار کمزوروں کو کھا جائیں گے (اور کوئی انصاف کرنے والا نہ رہے گا)، انہی لوگوں پر قیامت برپا ہو جائے گی۔
(مسند احمد: ۶/ ۸۱، ۹۰، صحیحہ: ۱۹۵۳)