الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
الْبَابُ الثَّانِي فِي الْاقْتَدَاءِ بِهِمْ وَأَنَّ الْخِلَافَةَ حَقٌّ لَهُمْ باب: دوم: اس امر کا بیان کہ قریش کی اقتداء کی جائے اور خلافت ان ہی کا استحقاق ہے
حدیث نمبر: 12545
عَنْ خُبَيْبِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي الْهُذَيْلِ، قَالَ: كَانَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ يَتَخَوَّلُنَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ: لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ قُرَيْشٌ لَيَضَعَنَّ اللَّهُ هَذَا الْأَمْرَ فِي جُمْهُورٍ مِنْ جَمَاهِيرِ الْعَرَبِ سِوَاهُمْ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: كَذَبْتَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”قُرَيْشٌ وُلَاةُ النَّاسِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبداللہ بن ہذیل سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ہمارا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے، بکر بن وائل کے قبیلہ میں سے کسی نے کہا: اگر قریش اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو یہ اقتدار ان سے نکل کر عربوں کے دوسرے قبائل میں چلا جائے گا، یہ سن کر سیدنا عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا: تم غلط کہتے ہو، میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ بھلائی کا کوئی کام ہو یا برائی کا، قیامت تک ہر کام میں قریش ہی لوگوں کے سربراہ رہیں گے۔