الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
الْبَابُ الأَوَّلُ فِي إِكْرَامِ قُرَيْشٍ وَعَدْمِ إِهَانَتِهِمْ أَوْ سَبُّھِمْ باب: قریش اور بعض دیگر عرب قبائل کے فضائل کا بیان باب اول: اس امر کابیان کہ قریش کی تکریم کی جائے اور ان کی اہانت اور ان کو برا بھلا کہنے سے احتراز کیاجائے
حدیث نمبر: 12540
عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا فَقَالَ ”هَلْ فِيكُمْ مِنْ غَيْرِكُمْ“ قَالُوا لَا إِلَّا ابْنَ أُخْتِنَا وَحَلِيفَنَا وَمَوْلَانَا فَقَالَ ”ابْنُ أُخْتِكُمْ مِنْكُمْ وَحَلِيفُكُمْ مِنْكُمْ وَمَوْلَاكُمْ مِنْكُمْ إِنَّ قُرَيْشًا أَهْلُ صِدْقٍ وَأَمَانَةٍ فَمَنْ بَغَى لَهَا الْعَوَائِرَ أَكَبَّهُ اللَّهُ فِي النَّارِ لِوَجْهِهِ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا رفاعہ بن رافع زرقی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قریش کو جمع کیا اور فرمایا: کیا تمہارے درمیان اس وقت کوئی غیر قریشی تو نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، البتہ ہمارا ایک بھانجا، ایک حلیف اور ایک غلام ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا بھانجا، تمہارا حلیف اور تمہارا غلام تم میں سے ہیں، بے شک قریش صدق و امانت کے حامل ہیں، جو آدمی ان کی کوتاہیاں اور لغزشیں تلاش کرے گا، اللہ اسے اس کے منہ کے بل جہنم میں ڈالے گا۔