الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
الْبَابُ الأَوَّلُ فِي إِكْرَامِ قُرَيْشٍ وَعَدْمِ إِهَانَتِهِمْ أَوْ سَبُّھِمْ باب: قریش اور بعض دیگر عرب قبائل کے فضائل کا بیان باب اول: اس امر کابیان کہ قریش کی تکریم کی جائے اور ان کی اہانت اور ان کو برا بھلا کہنے سے احتراز کیاجائے
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ الظَّفَرِيَّ وَقَعَ بِقُرَيْشٍ فَكَأَنَّهُ نَالَ مِنْهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا قَتَادَةُ لَا تَسُبَّنَّ قُرَيْشًا فَلَعَلَّكَ أَنْ تَرَى مِنْهُمْ رِجَالًا تَزْدَرِي عَمَلَكَ مَعَ أَعْمَالِهِمْ وَفِعْلَكَ مَعَ أَفْعَالِهِمْ وَتَغْبِطُهُمْ إِذَا رَأَيْتَهُمْ لَوْلَا أَنْ تَطْغَى قُرَيْشٌ لَأَخْبَرْتُهُمْ بِالَّذِي لَهُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ“ قَالَ يَزِيدُ سَمِعَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَسْلَمَ وَأَنَا أُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالَ هَكَذَا حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِمحمد بن ابراہیم سے روایت ہے کہ سیدنا قتادہ بن نعمان ظفری رضی اللہ عنہ نے قریش کے بارے میں ناقدانہ باتیں کیں اور ان کو برا بھلا بھی کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قتادہ! قریش کو برا بھلا مت کہو، ہوسکتا ہے تم ان میں ایسے افرادبھی دیکھوکہ ان کے اعمال کے بالمقابل تمہیں اپنے اعمال معمولی نظر آئیں اور تم اپنے افعال کو ان کے افعال کے بالمقابل کم تر خیال کرو اور تم انہیں دیکھو تو تم ان پر رشک کرو، اگر قریش کے اترانے اور مغرور ہوجانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں بتلا دیتا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کاکیا مرتبہ ہے؟