الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
الْبَابُ الأَوَّلُ فِي إِكْرَامِ قُرَيْشٍ وَعَدْمِ إِهَانَتِهِمْ أَوْ سَبُّھِمْ باب: قریش اور بعض دیگر عرب قبائل کے فضائل کا بیان باب اول: اس امر کابیان کہ قریش کی تکریم کی جائے اور ان کی اہانت اور ان کو برا بھلا کہنے سے احتراز کیاجائے
حدیث نمبر: 12538
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ قَالَ لِي أَبِي يَا بُنَيَّ إِنْ وَلِيتَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَيْئًا فَأَكْرِمْ قُرَيْشًا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ أَهَانَ قُرَيْشًا أَهَانَهُ اللَّهُ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عمرو بن عثمان بن عفان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے والد نے مجھ سے کہا: پیارے بیٹے! اگر تمہیں لوگوں پر حکمرانی کا موقع ملے تو قریش کا اکرام کرنا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ جس نے قریش کی توہین کی، اللہ اسے ذلیل و رسواکرے گا۔