الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
بَابُ فِيمَا وَرَدَ فِي فَضْلِ الْعَرْبِ مُطْلَقًا باب: عربوں کی مطلق فضیلت کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَكْرَمُ النَّاسِ قَالَ ”أَتْقَاهُمْ“ قَالُوا لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ قَالَ ”فَيُوسُفُ نَبِيُّ اللَّهِ ابْنُ نَبِيِّ اللَّهِ ابْنِ نَبِيِّ اللَّهِ ابْنِ خَلِيلِ اللَّهِ“ قَالُوا لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ قَالَ ”فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونَنِي خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا“سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیاگیاـ: لوگوں میں سب سے زیادہ معزز کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہو۔ صحابہ نے کہا: ہم نے اس کے بارے میں تو سوال نہیں کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر لوگوں میں سب سے زیادہ عزت والے اللہ کے نبی یوسف علیہ السلام ہیں، جن کے باپ بھی نبی ہیں، دادا بھی نبی ہیں اور پڑدادا خلیل اللہ ہیں۔ صحابہ نے کہا: ہمارا سوال اس کے متعلق بھی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم عرب کی کانوں (یعنی مختلف لوگوں) کے متعلق سوال کررہے ہو؟ لوگ تو کانیں ہیں، ان میں سے زمانہ ٔ جاہلیت کے بہتر لوگ، اسلام میں بھی بہتر ہیں جبکہ انھیں دین کی سمجھ ہو۔
شریعت ِ اسلامیہ کے نزدیک کامیابی و کامرانی کا معیار اور انحصار تقوی اور عمل صالح پر ہے، قومیت پر نہیں، بہرحال عرب لوگوں اپنی بعض صفات میں دنیا میں ممتاز سمجھے جاتے ہیں، مثال کے طور پر: جرأت و شجاعت، جود و سخا، فصاحت و بلاغت، میزبانی، عہد و پیمان کی پختگی اور جفاکشی۔