الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
الْبَابُ الرابِعُ فِي فَضْلِ الْقُرُونِ الْأَوَّلِ وَالثَّانِي وَالثَّالِثِ وَالرَّابِعِ وَفِي رِوَايَةِ وَالْخَامِسِ باب: چہارم: دورِ اول، دورِ دوم، دورِ سوم، دورِ چہارم اور ایک روایت کے مطابق دورِ پنجم کی فضیلت کابیان
عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْلَةَ قَالَ كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْقَرْنُ الَّذِينَ بُعِثْتُ أَنَا فِيهِمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَكُونُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ وَأَيْمَانُهُمْ شَهَادَتَهُمْ“ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً ”الْقَرْنُ الَّذِينَ بُعِثْتُ فِيهِمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ“عبداللہ بن مولہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے ساتھ چل رہا تھا، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: اس امت کا بہترین دور وہ ہے، جس کے اندر مجھے مبعوث کیا گیا ہے، اس کے بعد صحابہ کا، اس کے بعد تابعین اور اسکے بعد تبع تابعین کادور ہے، ان کے بعد ایسے لوگ آجائیں گے کہ جن کی گواہی ان کی قسموں پر اور ان کی قسمیں ان کی گواہی سے سبقت لے جائے گی۔ عفان نے ایک مرتبہ روایت کو یوں بیان کیا: سب سے بہتر زمانہ وہ ہے، جس میں مجھے مبعوث کیا گیا، اس کے بعد صحابہ کا، اس کے بعد تابعین کا اس کے بعد تبع تابعین کا اور اس کے بعد بعدوالوں کا زمانہ ہے۔