حدیث نمبر: 12524
عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْلَى قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ بِالْأَهْوَازِ إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ يَسِيرُ بَيْنَ يَدَيَّ عَلَى بَغْلٍ أَوْ بَغْلَةٍ، فَإِذَا هُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ ذَهَبَ قَرْنِي مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ فَأَلْحِقْنِي بِهِمْ، فَقُلْتُ: وَأَنَا فَأَدْخِلْ فِي دَعْوَتِكَ، قَالَ: وَصَاحِبِي هَذَا إِنْ أَرَادَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”خَيْرُ أُمَّتِي قَرْنِي مِنْهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ.“ قَالَ: وَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ الثَّالِثَ أَمْ لَا، ”ثُمَّ تَخْلُفُ أَقْوَامٌ يَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ، يُهْرِيقُونَ الشَّهَادَةَ وَلَا يَسْأَلُونَهَا.“ قَالَ: وَإِذَا هُوَ بُرَيْدَةُ الْأَسْلَمِيُّ.
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عبد اللہ بن مولہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں اہوا ز میں چلا جارہا تھااور میرے آگے آگے ایک آدمی خچر پر سوار یوں کہتا جارہا تھا: یا اللہ اس امت میں میرا زمانہ پورا ہوگیا ہے، اب تو مجھے میرے ساتھیوں کے ساتھ ملا دے، میں نے ان کی بات سن کر کہا: اور میں بھی، مجھے بھی اپنی دعامیں شامل کرو، اس نے کہا: اے اللہ! میرا یہ ساتھی بھی میرے ساتھ ہو،اگر یہ بھی اس بات کا متمنی ہے تو، پھر اس نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے: میری امت میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے، پھر اس کے بعد والوں کا۔ اب میں نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسرے زمانے کا ذکر کیا تھا یا نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعدایسے لوگ آجائیں گے، جن میں موٹاپا عام ہوگا، ان سے گواہی طلب نہیں کی جائے گی، مگر وہ گواہی دیں گے۔ یہ آدمی سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ تھے۔

وضاحت:
فوائد: … اس اور اگلے ابواب کا مفہوم بھی یہی ہے کہ بعد والے زمانوں کی بہ نسبت پہلے والے ادوار خیر و بھلائی پر مشتمل تھے، اُن ادوار میں بڑی بڑی نیکوکار ہستیاں موجود تھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12524
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، اخرجه ابويعلي في مسنده : 7420 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22960 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23348»