الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
الْبَابُ السَّادِسُ فِي دَعْوَاتِ النَّبِيِّ ﷺ الأُمَّتِهِ باب: ششم: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی امت کے حق میں دعاؤں کا بیان
عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَرْبَعًا فَأَعْطَانِي ثَلَاثًا وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً سَأَلْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يَجْمَعَ أُمَّتِي عَلَى ضَلَالَةٍ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يُهْلِكَهُمْ بِالسِّنِينَ كَمَا أَهْلَكَ الْأُمَمَ قَبْلَهُمْ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يَلْبِسَهُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ فَمَنَعَنِيهَا“صحابی ٔ رسول سیدنا ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے چار دعائیں کی ہیں، اس نے تین کو قبول کر لیا اور ایک کو قبول نہ کیا، میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ میری امت کو گمراہی پراکٹھا نہ کرے، اس نے میری یہ دعا قبول فرمائی، میں نے دوسری دعا یہ کی کہ اس نے جس طرح گزشتہ اقوام کو قحط کے ذریعے ہلاک کیا تھا، میری امت کو اس طرح ہلاک نہ کرے، اس نے اسے بھی قبول کر لیا اور میں نے یہ دعا بھی کی کہ وہ میری امت کو آپس کے اختلافات میں نہ ڈالے، لیکن اس نے میری یہ دعا قبول نہیں کی۔