حدیث نمبر: 12514
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ عَنْ أَبِيهِ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ وَكَانَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ رَاقَبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ صَلَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلَّهَا حَتَّى كَانَ مَعَ الْفَجْرِ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ جَاءَهُ خَبَّابٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي لَقَدْ صَلَّيْتَ اللَّيْلَةَ صَلَاةً مَا رَأَيْتُكَ صَلَّيْتَ نَحْوَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَجَلْ إِنَّهَا صَلَاةُ رَغَبٍ وَرَهَبٍ سَأَلْتُ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى ثَلَاثَ خِصَالٍ فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً سَأَلْتُ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ لَا يُهْلِكَنَا بِمَا أَهْلَكَ بِهِ الْأُمَمَ قَبْلَنَا فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْنَا عَدُوًّا غَيْرَنَا فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ لَا يَلْبِسَنَا شِيَعًا فَمَنَعَنِيهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا خباب بن ارت سے روایت ہے، یہ صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تھے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ میں نے ساری رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نگاہ رکھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ساری رات نماز پڑھنے میں گزاردی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فجر کے وقت سلام پھیرا، تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آج رات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسی نماز پڑھی ہے کہ میں نے قبل ازیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح نماز پڑھتے نہیں دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں یہ انتہائی رغبت اور اللہ سے ڈروالی نماز تھی،میں نے اپنے رب تعالیٰ سے تین دعائیں کیں تو اس نے دو کو قبول اور ایک کو رد کردیا، میں نے اپنے رب تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ہمیں ان عذابوں کے ساتھ ہلاک نہ کرے جن کے ساتھ اس نے گزشتہ قوموں کو ہلاک کیا تھا، تو اس نے یہ دعا قبول کرلی اور میں نے اپنے رب عزوجل سے دعا کی کہ وہ ہمارے دشمنوں کو ہم پر غالب نہ کرے، اس نے میری یہ دعا بھی قبول کرلی اور میں نے اپنے رب عزوجل سے دعاکی کہ وہ ہمارے درمیان آپس میں اختلافات نہ ڈالے، تو اس نے میری دعا قبول نہیں کی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12514
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، اخرجه الترمذي: 2175، والنسائي: 3/ 216 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21053 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21367»