حدیث نمبر: 12513
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ صَلَّى سُبْحَةَ الضُّحَى ثَمَانَ رَكَعَاتٍ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ ”إِنِّي صَلَّيْتُ صَلَاةَ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثًا فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَبْتَلِيَ أُمَّتِي بِالسِّنِينَ وَلَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوَّهُمْ فَفَعَلَ وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَلْبِسَهُمْ شِيَعًا فَأَبَى عَلَيَّ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سفر میں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاشت کے وقت آٹھ رکعت نماز ادا کی، نماز سے فراغت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج میں نے انتہائی رغبت اور اللہ سے ڈرتے ہوئے نما ز پڑھی ہے، میں نے اپنے رب سے تین دعائیں کی ہیں،اس نے میری دو دعاؤں کو قبول اورایک کو قبول نہیں کیا، میں نے دعا کی کہ وہ میری امت کو قحط میں مبتلا نہ کرے،اس نے اسے قبول کر لیا، پھر میں نے دعا کی کہ ان کا دشمن ان پر غالب نہ آئے، اس نے یہ دعا بھی قبول کر لی اور میں نے دعا کی کہ ان کے آپس میں اختلافات نہ ہوں، تو اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول نہیں کی۔

وضاحت:
فوائد: … کسی ایک ملک یا خطے کے لوگوں پر دشمنوں کا غلبہ ہو سکتا ہے، پوری امت کے ساتھ ایسا نہیں ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12513
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، اخرجه ابن خزيمة: 1228، والحاكم: 1/ 314 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12589 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12617»