حدیث نمبر: 12512
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَرَرْنَا عَلَى مَسْجِدِ بَنِي مُعَاوِيَةَ فَدَخَلَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ وَنَاجَى رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ طَوِيلًا قَالَ ”سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثًا سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالْغَرَقِ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالسَّنَةِ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَمَنَعَنِيهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ سفر سے واپس ہوئے، ہمارا مسجد بنی معاویہ کے پاس سے گزر ہوا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد کے اندر تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعت نماز ادا کی، ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کافی دیر تک اللہ سے مناجات کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے تین دعائیں کی ہیں، میں نے ایک دعا یہ کی کہ اللہ میری امت کو غرق کے ذریعے ہلاک نہ کرے، اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول فرمائی، میں نے دوسری دعا یہ کی کہ وہ میری امت کو قحط کے ذریعے ہلاک نہ کرے،اللہ نے میری یہ دعا بھی قبول فرمائی، میں نے تیسری دعا یہ کی کہ ان کا آپس میں اختلاف نہ ہو، اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول نہیں کی۔

وضاحت:
فوائد: … کسی ایک خطے میں سخت قحط پڑ سکتا ہے اور کسی خطے میں لوگ پانی میں غرق بھی ہو سکتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا سے مراد یہ ہے کہ ان آزمائشوں کی وجہ سے پوری امت ہلاک نہیں ہو گی، جیسا کہ پہلے والی امتیں مبتلا ہو جاتی تھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12512
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 2890، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1516 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1516»