الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
الْبَابُ الْخَامِسُ فِي تَمْيِيزِ الْأُمَّةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ مِنْ سَائِرِ الْأُمَمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِالتَّحْجِيلِ باب: پنجم: اس امر کا بیان کہ قیامت کے دن باقی امتوں میں سے صرف امت محمدیہ کی امتیازی علامت یہ ہوگی کہ ان کے ہاتھ پائوں روشن ہوں گے
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَنَا أَوَّلُ مَنْ يُؤْذَنُ لَهُ بِالسُّجُودِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يُؤْذَنُ لَهُ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ فَأَنْظُرَ إِلَى بَيْنِ يَدَيَّ فَأَعْرِفَ أُمَّتِي مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ وَمِنْ خَلْفِي مِثْلُ ذَلِكَ وَعَنْ يَمِينِي مِثْلُ ذَلِكَ وَعَنْ شِمَالِي مِثْلُ ذَلِكَ“ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَعْرِفُ أُمَّتَكَ مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ فِيمَا بَيْنَ نُوحٍ إِلَى أُمَّتِكَ قَالَ ”هُمْ غُرٌّ مُحَجَّلُونَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ لَيْسَ أَحَدٌ كَذَلِكَ غَيْرُهُمْ وَأَعْرِفُهُمْ أَنَّهُمْ يُؤْتَوْنَ كُتُبَهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ وَأَعْرِفُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ ذُرِّيَّتُهُمْ“سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے مجھے سجدہ کرنے کی اجازت دی جائے گی اور مجھے ہی سب سے پہلے سجدہ سے سر اٹھانے کی اجازت ملے گی، میں اپنے سامنے دیکھوں گا تو ساری امتوں میں سے اپنی امت کو پہچان لوں گا، میرے پیچھے میری دائیں اور میری بائیں جانب، ہرطرف لوگ ہی لوگ ہوں گے۔ ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ نوح علیہ السلام سے اپنی امت تک کی امتوں کے افراد میں سے اپنی امت کے لوگوں کو کیسے پہچانیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وضو کی برکت سے ان کے وضو کے اعضا ء روشن ہوں گے، اس امت کے علاوہ کسی دوسری کا کوئی آدمی اس علامت کا حامل نہ ہوگا اور میری امت کے لوگوں کو ان کے نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھوں میں دئیے جائیں گے اور میں انہیں اس طرح بھی پہچان لوں گا کہ ان کی اولاد ان کے سامنے دوڑ رہی ہو گی۔