الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
الْبَابُ الثَّالِثُ فِي بَقَاءِ طَائِفَةٍ مِنَ الْأُمَّةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ ثابِتَةِ عَلَى الْحَقِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ باب: با ب سوم: اس امر کا بیان کہ امت محمدیہ میں سے ایک گروہ قیامت تک حق پر ثابت قدم رہے گا
حدیث نمبر: 12498
عَنْ سَهْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا تَزَالُ الْأُمَّةُ عَلَى الشَّرِيعَةِ مَا لَمْ يَظْهَرْ فِيهَا ثَلَاثٌ مَا لَمْ يُقْبَضِ الْعِلْمُ مِنْهُمْ وَيَكْثُرْ فِيهِمْ وَلَدُ الْحِنْثِ وَيَظْهَرْ فِيهِمُ الصَّقَّارُونَ“ قَالَ وَمَا الصَّقَّارُونَ أَوْ الصَّقْلَاوُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”بَشَرٌ يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ تَحِيَّتُهُمْ بَيْنَهُمُ التَّلَاعُنُ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا معاذ بن انس جہنی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت شریعت پر ثابت قدم رہے گی، جب تک ان میں یہ تین باتیں ظاہر نہ ہو جائیں گی: (۱) علم کا اٹھ جانا، (۲) زنا کی یعنی حرامی اولاد کی کثرت ہو جانا اور صَقَّارُون کا ظاہر ہونا۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اللہ کے رسول! صقارون سے کون لوگ مرادہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آخر زمانہ میں ایسے لوگ آئیں گے، جو ملاقات کے وقت سلام کی بجائے ایک دوسرے کو گالیاں دیں گے۔