الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
الْبَابُ الثَّانِي مِقْدَارُ الْأُمَّةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ فِي الْأُمَمِ الْأُخْرَى وَأَنَّهَا ثُلُنَا أَهْلِ الْجَنَّةِ باب: دوم: دیگر امتوں کے مقابلے میں اس امت کی تعداد اورمقدار کا بیان اور اس حقیقت کا بیان کہ جنت میں دو تہائی تعداد اس امت کے افراد کی ہوگی
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”أَوَّلُ مَنْ يُدْعَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ آدَمُ فَيُقَالُ هَذَا أَبُوكُمْ آدَمُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ فَيَقُولُ لَهُ رَبُّنَا أَخْرِجْ نَصِيبَ جَهَنَّمَ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ فَيَقُولُ يَا رَبِّ وَكَمْ فَيَقُولُ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ“ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِذَا أُخِذَ مِنَّا مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ فَمَاذَا يَبْقَى مِنَّا قَالَ ”إِنَّ أُمَّتِي فِي الْأُمَمِ كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ“سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے آدم علیہ السلام کو لا کر کہا جائے گا: یہ تمہارا باپ آدم علیہ السلام ہے، آدم علیہ السلام کہیں گے: اے میرے رب! میں حاضر ہوں، پھر ہمارا رب ان سے فرمائے گا: تم اپنی اولاد میں سے جہنم کا حصہ الگ کر دو، وہ کہیں گے:اے میرے رب! کتنا حصہ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ہر سو میں سے ننانوے۔ ہم نے کہا: اللہ کے رسول! اگر ہر سو میں ننانوے نکل گئے تو جنت میں جانے کے لیے ہم میں سے کتنے باقی بچیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: باقی امتوں کے بالمقابل میری امت یوں ہوگی، جیسے سیاہ بیل کی جلد پر ایک سفید بال۔