حدیث نمبر: 12487
عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ نَحْوٌ مِنْ أَرْبَعِينَ فَقَالَ ”أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ“ قُلْنَا نَعَمْ قَالَ ”أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ“ قُلْنَا نَعَمْ قَالَ ”وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَذَاكَ أَنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ وَمَا أَنْتُمْ فِي الشِّرْكِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ ثَوْرٍ أَسْوَدَ أَوِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ ثَوْرٍ أَحْمَرَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم تقریباً چالیس آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک قبہ میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ اس بات پر راضی ہو کہ اہل جنت کا چوتھا حصہ تم لوگ ہو گے۔ ہم نے عرض کی: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ تمہاری تعداد اہل جنت کا تیسراحصہ ہو؟ ہم نے کہا:جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے،مجھے امید ہے کہ جنت میں آدھی تعداد تمہاری ہوگی، اس لیے کہ جنت میں وہی لوگ جائیں گے جو مسلمان ہوں گے اور اہل شرک کے بالمقابل تمہاری تعداد یوں ہے، جیسے سیاہ بیل کی جلد پر سفید بال ہو یا سرخ بیل کی جلد پر سیاہ بال ہو۔

وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی دو امتیازی خصوصیات بھی ہیں کہ اس کی عمر بھی زیادہ ہے اور ایک وقت میں اس کی تعداد بھی بہت زیادہ ہوتی ہے،اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی پندرہویں صدی جاری ہے اور تعداد کم و بیش سوا ارب سے زیادہ ہے۔ ان خصوصیات کا یہ نتیجہ تو واضح ہے کہ جنت میں بھی اس کی تعداد زیادہ ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12487
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6642ومسلم: 376، 378 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3661 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3661»