حدیث نمبر: 12479
وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَعْجِزَ أُمَّتِي عِنْدَ رَبِّي أَنْ يُؤَخِّرَهُمْ نِصْفَ يَوْمٍ“ فَقِيلَ لِسَعْدٍ وَكَمْ نِصْفُ يَوْمٍ قَالَ خَمْسُ مِائَةِ سَنَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ میرے رب کے ہاں میری امت اس بات سے عاجز نہیں آئے گی کہ وہ اسے حساب کتاب کے لیے نصف یوم تک روکے رکھے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا: نصف یوم کی مقدار کتنی ہے؟ انہوں نے کہا: پانچ سو سال۔

وضاحت:
فوائد: … یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت حشر کے میدان میں نصف دن تک صبر کر سکے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12479
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1465»