حدیث نمبر: 12473
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ أَمَانَانِ كَانَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رُفِعَ أَحَدُهُمَا وَبَقِيَ الْآخَرُ {وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ} [الأنفال: 33]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں اس امت کو دو ضمانتیں حاصل تھیں، اب ان میں سے ایک ضمانت تو اٹھا لی گئی ہے اور دوسری ابھی تک باقی ہے، امان کی ان دو قسموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:{وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَأَنْتَ فِیہِمْ وَمَا کَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَہُمْ وَہُمْ یَسْتَغْفِرُونَ} … اور اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرے گا کہ آپ کے ہوتے ہوئے ان کو عذاب دے اور اللہ تعالیٰ ان کو عذاب نہیں دے گا، اس حالت میں کہ وہ استغفار بھی کرتے ہوں گے۔

وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ کے عذاب سے امن و امان کے دو اسباب تھے، ایک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی اور دوسرا استغفار، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے ایک سبب ختم ہو چکا ہے اور استغفار کا سبب باقی ہے۔ اس آیت سے استغفار کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12473
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه الترمذي: 3082 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:19607 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19836»