حدیث نمبر: 12467
عَنْ أَبِي حَلْبَسٍ يَزِيدَ بْنِ مَيْسَرَةَ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ تَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا سَمِعْتُهُ يُكَنِّيهِ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا يَقُولُ ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَا عِيسَى إِنِّي بَاعِثٌ مِنْ بَعْدِكَ أُمَّةً إِنْ أَصَابَهُمْ مَا يُحِبُّونَ حَمِدُوا اللَّهَ وَشَكَرُوا وَإِنْ أَصَابَهُمْ مَا يَكْرَهُونَ احْتَسَبُوا وَصَبَرُوا وَلَا حِلْمَ وَلَا عِلْمَ قَالَ يَا رَبِّ كَيْفَ هَذَا لَهُمْ وَلَا حِلْمَ وَلَا عِلْمَ قَالَ أُعْطِيهِمْ مِنْ حِلْمِي وَعِلْمِي“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا،راویہ ام درداء کہتی ہیں: میں نے ابودرداء کو اس سے پہلے یا اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کنیت کے ساتھ کرتے نہیں سنا، بہرحال وہ کہتے ہیں کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے عیسیٰ! میں تیرے بعد ایک ایسی امت بھیجنے والا ہوں، اگر ان کو وہ چیز ملے جس سے وہ محبت کرتے ہوں، تو وہ میری حمد کریں گے اور شکر بجا لائیں گے اور اگر ان کو ایسے احوال پیش آئیں، جو بظاہر انہیں ناپسند ہوں گے، تب بھی وہ صبر کریں گے اور ثواب کی امید رکھیں گے اور ان کے پاس نہ بردباری ہو گی اور نہ علم ہوگا، عیسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: اے میرے رب! جب ان کے پاس حلم اور علم نہ ہوگا تو مذکورہ خصائص ان میں کیسے آئیں گے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں اپنی طرف سے انہیں حلم اور علم سے نواز دوں گا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12467
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالةحال ابي حلبس يزيد بن ميسرة، اخرجه البزار: 2845، والطبراني في الاوسط : 3276، والحاكم: 1/ 348 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27545 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28095»