حدیث نمبر: 12465
عَنِ الْعَبَّاسِ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ ”انْظُرْ هَلْ تَرَى فِي السَّمَاءِ مِنْ نَجْمٍ“ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ ”مَا تَرَى“ قَالَ قُلْتُ أَرَى الثُّرَيَّا قَالَ ”أَمَا إِنَّهُ يَلِي هَذِهِ الْأُمَّةَ بِعَدَدِهَا مِنْ صُلْبِكَ اثْنَانِ فِي فِتْنَةٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم آسمان پر کوئی تارا دیکھ رہے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کیا دیکھ رہے ہو؟ میں نے کہا: میں ثریا تارے دیکھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری نسل میں سے ثریا ستاروں کی تعداد کے بقدر دو آدمی ہر ایک فتنہ کے زمانہ میں اس امت پر حکمرانی کریں گے ۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 12465
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، عبيد بن ابي فروة، قال البخاري: لايتابع في حديثه في قصة العباس، اخرجه الحاكم: 3/ 326، والبيھقي في الدلائل : 6/ 518 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1786 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1786»