حدیث نمبر: 124
وَعَنْهُ فِي أُخْرَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ ثُمَّ قَدْ حَرُمَ عَلَيَّ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے قتال کرتا رہوں، جب تک ایسا نہ ہو جائے کہ وہ «لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ» کہیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، اس طرح سے ان کے خون اور مال مجھ پر حرام ہو جائیں گے اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہو گا۔“

وضاحت:
فوائد: … کسی کے مسلمان ہونے کی ظاہری تین نشانیاں ہیں: (۱)اللہ تعالیٰ کی توحید اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کی شہادت دینا (۲)نمازقائم کرنا اور (۳) زکوۃ اد اکرنا
اگر نماز اور زکوۃ کی ادائیگی کا وقت نہ ہو تو کسی کے مسلمان ہونے کے لیے شہادتین کا اظہار کافی ہو گا، جیسا کہ حدیث نمبر (۱۲۶) سے ثابت ہو رہا ہے۔ جو آدمی، مسلمانوں کے حکمران سے اپنی جان اور مال کو محفوظ کرنا چاہے گا، اس کے لیے ضروری ہو گا کہ ان تین ارکان کو اپنا لے، پھر اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا جائے گا اور ہمیں یہ تحقیق کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی کہ آیا یہ واقعی باطن سے مسلمان ہو چکا ہے یا اس کا معاملہ صرف بظاہر ہے۔ لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ حکمرانوں سمیت مسلمانوں کی کثیر تعداد نماز اور زکوۃ جیسے فریضوں سے غافل ہے اور اکثر کی توحید کا معاملہ بھی مشتبہ ہے۔ العیاذ باللّٰہ۔
ہم یہاں یہ فقہی بحث نہیں کر رہے کہ یہ تین ارکان کون کون سے امور کو مستلزم ہیں اور مزید وہ کون کون سے اسلام کے اجزاء اور شقیں ہیں، جن کے انکار سے کفر لازم آتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 124
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 21 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10822 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10834»