حدیث نمبر: 123
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى)) قَالَ: فَلَمَّا كَانَتِ الرَّدَّةُ، قَالَ عُمَرُ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: تُقَاتِلُهُمْ وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: نُقَاتِلُهُمْ وَاللَّهِ، لَا أُفَرِّقُ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَلَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا، قَالَ: فَقَاتَلْنَا مَعَهُ فَرَأَيْنَا ذَلِكَ رَشَدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب تک لوگ «لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کا اقرار نہیں کریں، میں ان سے لڑتا رہوں، جب وہ یہ کلمہ کہہ لیں گے تو اپنے خون اور مال بچا لیں گے، مگر ان کے حق کے ساتھ، اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہو گا۔“ جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں زکوٰۃ کے انکار کا سلسلہ شروع ہوا اور (سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ایسے لوگوں سے لڑنا چاہا تو) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”آپ ان لوگوں سے کیسے قتال کریں گے، جب کہ میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا (کہ «لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کے بعد مال اور خون محفوظ ہو جاتے ہیں)،“ لیکن سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! ہم ایسے لوگوں سے لڑیں گے، میں نماز اور زکوٰۃ میں کوئی فرق نہیں کرتا اور میں اس سے لڑوں گا جو ان کے درمیان فرق کرے گا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”پھر ہم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر ایسے لوگوں سے قتال کیا اور ہمیں یہ سمجھ آ گئی تھی کہ یہی معاملہ ہدایت والا ہے۔“

وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو بکر صدیق کے دورِ خلافت میں دو قسم کے مرتدین پیدا ہو گئے تھے، ایک وہ جو اسلام سے مرتد ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا ہی انکار کر دیا، جیسے مسیلمہ اور اسود عنسی اور ان کے پیروکار، خلیفۂ اول نے ان سے جہاد کیا، یہ دونوں قتل ہو گئے اور ان کا شیرازہ بکھر گیا، دوسرے وہ جنھوں نے نماز اور زکاۃ میں فرق کیا اور زکاۃ کی فرضیت کا انکار کر دیا، سیدنا ابو بکر ؓنے ان سے بھی قتال کیا، شروع میں سیدنا عمر ؓنے اس پر موافقت نہیں کی تھی، لیکن بعد میں وہ قائل ہو گئے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 123
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6924، 6925، 7285، ومسلم: 20، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 67 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 67»