الفتح الربانی
كتاب الإيمان و الإسلام— ایمان اور اسلام کی کتاب
بَابٌ فِي حُكْمِ الْإِقْرَارِ بِالشَّهَادَتَيْنِ وَ أَنَّهُمَا تَعْصِمَانِ قَائِلَهُمَا مِنَ الْقَتْلِ وَ بِهِمَا يَكُونُ مُسْلِمًا وَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ باب: دونوں شہادتوں کا اقرار کرنے والے کا حکم اور اس امر کا بیان کہ یہ دونوں آدمی کو قتل سے بچاتی ہیں اور ان کے ذریعے ہی بندہ مسلمان ہوتا ہے اور جنت میں داخل ہوتا ہے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى)) قَالَ: فَلَمَّا كَانَتِ الرَّدَّةُ، قَالَ عُمَرُ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: تُقَاتِلُهُمْ وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: نُقَاتِلُهُمْ وَاللَّهِ، لَا أُفَرِّقُ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَلَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا، قَالَ: فَقَاتَلْنَا مَعَهُ فَرَأَيْنَا ذَلِكَ رَشَدًاسیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب تک لوگ «لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کا اقرار نہیں کریں، میں ان سے لڑتا رہوں، جب وہ یہ کلمہ کہہ لیں گے تو اپنے خون اور مال بچا لیں گے، مگر ان کے حق کے ساتھ، اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہو گا۔“ جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں زکوٰۃ کے انکار کا سلسلہ شروع ہوا اور (سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ایسے لوگوں سے لڑنا چاہا تو) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”آپ ان لوگوں سے کیسے قتال کریں گے، جب کہ میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا (کہ «لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کے بعد مال اور خون محفوظ ہو جاتے ہیں)،“ لیکن سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! ہم ایسے لوگوں سے لڑیں گے، میں نماز اور زکوٰۃ میں کوئی فرق نہیں کرتا اور میں اس سے لڑوں گا جو ان کے درمیان فرق کرے گا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”پھر ہم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر ایسے لوگوں سے قتال کیا اور ہمیں یہ سمجھ آ گئی تھی کہ یہی معاملہ ہدایت والا ہے۔“