حدیث نمبر: 122
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْخٌ كَبِيرٌ يَدَّعِمُ عَلَى عَصًا لَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ لِي غَدَرَاتٍ وَفَجَرَاتٍ فَهَلْ يُغْفَرُ لِي؟ قَالَ: ((أَلَسْتَ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟)) قَالَ: بَلَى! وَأَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: ((قَدْ غُفِرَ لَكَ غَدَرَاتُكَ وَفَجَرَاتُكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بوڑھا آدمی لاٹھی کے سہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! بیشک میں نے دھوکے، خیانتیں اور برائیاں کی تھیں، کیا پھر بھی مجھے بخش دیا جائے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو یہ شہادت نہیں دے رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے؟“ اس نے کہا: ”کیوں نہیں، بلکہ میں تو یہ گواہی بھی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے دھوکوں، خیانتوں اور برائیوں کو بخش دیا گیا ہے۔“

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 122
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح بشواهده۔ أخرجه الطبراني ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19432 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19652»