الفتح الربانی
كنى الصحابيات— کنیت صحابیات
وَمِنْهُمْ أَحْنَفُ بْنُ قَيْسٍ وَمِنْهُمْ أُويْسُ الْقَرَنِي باب: احنف بن قیسlکا تذکرہ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ الْأَحْنَفِ قَالَ بَيْنَمَا أَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ لَقِيَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَقَالَ أَلَا أُبَشِّرُكَ قَالَ قُلْتُ بَلَى قَالَ أَتَذْكُرُ إِذْ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْمِكَ بَنِي سَعْدٍ أَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ قَالَ فَقُلْتُ أَنْتَ وَاللَّهِ مَا قَالَ إِلَّا خَيْرًا وَلَا أَسْمَعُ إِلَّا حُسْنًا فَإِنِّي رَجَعْتُ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَقَالَتِكَ قَالَ ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَحْنَفِ“ قَالَ فَمَا أَنَا لِشَيْءٍ أَرْجَى مِنْهَاحسن سے روایت ہے کہ احنف نے کہا: میں ایک دفعہ بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا کہ بنو سلیم کا ایک آدمی آ کر مجھے ملا اور اس نے مجھ سے کہا:کیا میں تمہیں ایک خوش خبری سناؤں؟ میں نے کہا: جی ضرور سنائیں۔ اس نے کہا: کیا آپ کو یاد ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تمہاری قوم بنو سعد کی طرف روانہ فرمایا تھا تاکہ میں انہیں اسلام کی دعوت دوں تو تم نے اس موقع پر کہا تھا کہ اللہ کی قسم! اس رسول نے اچھی بات ہی کہی ہے اور میں نے بھی ان کے متعلق اچھا ہی سنا ہے، جب میں نے واپس آکر تمہاری بات سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آگاہ کیا تو آپ نے یوں دعا کی تھی: اے اللہ! تو احنف کو بخش دے۔ انھوں نے کہا: پس مجھے سب سے زیادہ امید اسی دعا پر ہے۔