الفتح الربانی
كنى الصحابيات— کنیت صحابیات
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَم هاني بنت أبی طالب رَضِيَ اللهُ عَنْهَاْ باب: سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ قَالَتْ مَرَّ بِي ذَاتَ يَوْمٍ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ كَبِرْتُ وَضَعُفْتُ أَوْ كَمَا قَالَتْ فَمُرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُهُ وَأَنَا جَالِسَةٌ قَالَ ”سَبِّحِي اللَّهَ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ فَإِنَّهَا تَعْدِلُ لَكِ مِائَةَ رَقَبَةٍ تُعْتِقِينَهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَاحْمَدِي اللَّهَ مِائَةَ تَحْمِيدَةٍ تَعْدِلُ لَكِ مِائَةَ فَرَسٍ مُسْرَجَةٍ مُلْجَمَةٍ تَحْمِلِينَ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَكَبِّرِي اللَّهَ مِائَةَ تَكْبِيرَةٍ فَإِنَّهَا تَعْدِلُ لَكِ مِائَةَ بَدَنَةٍ مُقَلَّدَةٍ مُتَقَبَّلَةٍ وَهَلِّلِي اللَّهَ مِائَةَ تَهْلِيلَةٍ“ قَالَ ابْنُ خَلَفٍ أَحْسِبُهُ قَالَ ”تَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَا يُرْفَعُ يَوْمَئِذٍ لِأَحَدٍ عَمَلٌ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَ بِمِثْلِ مَا أَتَيْتِ بِهِ“سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے گزرے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں عمر رسیدہ ہو گئی ہوں اور کمزور ہو گئی ہے، اس لیے مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں کہ بیٹھ کر کر لیا کروں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سو (۱۰۰) بار سُبْحَانَ اللّٰہ کہو، یہ عمل تمہارے لیے اولادِ اسماعیل سے سو گردنیں آزاد کرنے کے برابر ہو گا، سو (۱۰۰) دفعہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہو، یہ عمل تمہارے لیے اللہ کے راستے میں سو لگام شدہ اور زین شدہ گھوڑے دینے کے برابر ہو گا، سو (۱۰۰) بار اَللّٰہُ اَکْبَر کہو، یہ عمل تیرے لیے ان سو (۱۰۰) اونٹوں کے برابر ہو گا، جن کو قلادے ڈال کر حج کے زمانے میں مکہ مکرمہ کی طرف بھیج دیا جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبول بھی کر لیے جائیں اور سو (۱۰۰) بار لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہو، یہ عمل آسمان و زمین کے درمیانی خلا کو ثواب سے بھر دے گا، اس دن کسی آدمی کا ایسا عظیم عمل اوپر کی طرف نہیں اٹھائے، الا یہ کہ وہ اسی طرح کا عمل کرے، جیسے تو نے کیا ہے۔
تمام فرائض و واجبات اور سنن و نوافل، باقیات صالحات ہیں، بلکہ ممنوعہ امور سے اجتناب کرنا بھی عمل صالح ہے، جس پر آخرت میں اجر و ثواب ملے گا۔ اس حدیث میں ایک مثال کا ذکر ہے۔