الفتح الربانی
كنى الصحابيات— کنیت صحابیات
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَم هاني بنت أبی طالب رَضِيَ اللهُ عَنْهَاْ باب: سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
حدیث نمبر: 12003
عَنْ أُمِّ هَانِئٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَدَعَا بِشَرَابٍ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَهَا فَشَرِبَتْ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا إِنِّي كُنْتُ صَائِمَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”الصَّائِمُ الْمُتَطَوِّعُ أَمِيرُ نَفْسِهِ إِنْ شَاءَ صَامَ وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی طلب فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی پی کر باقی پانی ان کو واپس دیا تو انہوں نے (آپ کا جوٹھا پانی) پی لیا اور پھر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں تو روزے سے تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نفلی روزے دار اپنے نفس کا خود امیر ہوتا ہے، چاہے تو روزہ پورا کر لے اور چاہے تو روزہ توڑ دے۔