حدیث نمبر: 120
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ وَيَفْعَلُ وَيَفْعَلُ، فَهَلْ لَهُ فِي ذَلِكَ يَعْنِي مِنْ أَجْرِهِ؟ قَالَ: ((إِنَّ أَبَاكَ طَلَبَ أَمْرًا فَأَصَابَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا باپ صلہ رحمی کرتا تھا اور اس کے علاوہ بھی کئی نیک کام کرتا تھا، تو اس کو ان کا اجر ملے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک تیرا باپ (شہرت اور تعریف کی صورت میں) جس چیز کا طلبگار تھا، وہ اس کو مل گئی تھی۔“

وضاحت:
فوائد: … حاتم طائی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی ذات نہیں تھا، بلکہ وہ تو شہرت اور تعریف کا طلبگار تھا اور یہ چیز اس کو زندگی میں بھی مل گئی تھی اور موت کے بعد بھی، دین اسلام کی قبولیت کے بعد اپنے افعال و اقوال میں اخلاص پیدا کرنا نہایت ضروری ہے، وگرنہ نہ صرف نیک عمل ضائع ہوتا ہے، بلکہ وبال جان بھی بنتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 120
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن ۔ أخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار : 4361، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19386 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19605»