الفتح الربانی
كتاب الإيمان و الإسلام— ایمان اور اسلام کی کتاب
بَابٌ فِي كَوْنِ الْإِسْلَامِ يَجُبُّ مَا قَبْلَهُ مِنَ الذُّنُوبِ وَكَذَا الْهِجْرَةُ وَ هَلْ يُؤَاخَذُ بِأَعْمَالِ الْجَاهِلِيَّةِ وَ بَيَانُ حُكْمِ عَمَلِ الْكَافِرِ إِذَا أَسْلَمَ بَعْدَهُ باب: اسلام اور ہجرت کا پہلے والے گناہوں کو مٹا دینے، دورِ جاہلیت کے اعمال کی وجہ سے مؤاخذہ ہونے اور مسلمان ہو جانے والے کافر کے پہلے والے عمل کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 120
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ وَيَفْعَلُ وَيَفْعَلُ، فَهَلْ لَهُ فِي ذَلِكَ يَعْنِي مِنْ أَجْرِهِ؟ قَالَ: ((إِنَّ أَبَاكَ طَلَبَ أَمْرًا فَأَصَابَهُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرا باپ صلہ رحمی کرتا تھا اور اس کے علاوہ بھی کئی نیک کام کرتا تھا، تو اس کو ان کا اجر ملے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک تیرا باپ (شہرت اور تعریف کی صورت میں) جس چیز کا طلبگار تھا، وہ اس کو مل گئی تھی۔“
وضاحت:
فوائد: … حاتم طائی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی ذات نہیں تھا، بلکہ وہ تو شہرت اور تعریف کا طلبگار تھا اور یہ چیز اس کو زندگی میں بھی مل گئی تھی اور موت کے بعد بھی، دین اسلام کی قبولیت کے بعد اپنے افعال و اقوال میں اخلاص پیدا کرنا نہایت ضروری ہے، وگرنہ نہ صرف نیک عمل ضائع ہوتا ہے، بلکہ وبال جان بھی بنتا ہے۔