الفتح الربانی
كتاب التوحيد— توحید کی کتاب
بابٌ فِي عَظَمَةِ اللهِ تَعَالَى وَكِبْرِيَائِهِ وَكَمَالِ قُدْرَتِهِ وَافْتِقَارِ الْخَلْقِ باب: اللہ تعالیٰ کی عظمت، بڑائی اور کمال قدرت اور مخلوق کا اس کا محتاج ہونے کا بیان
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ اللَّهَ لَا يَنَامُ وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ، حِجَابُهُ النَّارُ، لَوْ كَشَفَهَا لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ كُلَّ شَيْءٍ أَدْرَكَهُ بَصَرُهُ)) ثُمَّ قَرَأَ أَبُو عُبَيْدَةَ: {فَلَمَّا جَاءَهَا نُودِيَ أَنْ بُورِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا وَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ}(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نہیں سوتا اور اس کے شایانِ شان بھی نہیں ہے کہ وہ سوئے، وہ ترازو کو پست بھی کرتا ہے اور بلند بھی کرتا ہے، اس کا پردہ آگ ہے، اگر وہ اس پردے کو ہٹا دے تو اس کے چہرے کی انوار و تجلیات ان تمام چیزوں کو جلا دیں، جن کو اس کی نظر پاتی ہے، اللہ کی نظر تمام مخلوق پر ہے۔ اس لیے مفہوم یہ ہے کہ پردہ دور ہونے سے تمام مخلوق جل کر راکھ ہو جائے۔ پھر ابو عبیدہ نے یہ آیت تلاوت کی: «إِذَا جَاءُوا فَنَادَىٰ مِن مَّكَانٍ قَرِيبٍ بَارَكَ الَّذِي فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا وَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» (النمل: 8) جب وہ وہاں پہنچے تو آواز دی گئی کہ بابرکت ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور برکت دیا گیا ہے وہ جو اس کے آس پاس ہے اور پاک ہے اللہ جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔“