حدیث نمبر: 11990
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا انْهَزَمَ الْمُسْلِمُونَ يَوْمَ حُنَيْنٍ نَادَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا انْهَزَمُوا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا أُمَّ سُلَيْمٍ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ كَفَى“ قَالَ فَأَتَاهَا أَبُو طَلْحَةَ وَمَعَهَا مِعْوَلٌ فَقَالَ مَا هَذَا يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَالَتْ إِنْ دَنَا مِنِّي أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ بَعَجْتُهُ قَالَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ انْظُرْ مَا تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک اور روایت میں ہے کہ حنین کے دن جب مسلمان شکست کھا گئے تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے آواز دی: اے اللہ کے رسول!جولوگ ہم سے بعد والے ہیں، آپ انہیں قتل کر دیں،یہ لوگ آپ کو اکیلے چھوڑ کر نکل بھاگے ہیں۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ام سلیم! اللہ تعالیٰ نے ہماری خوب مدد کی ہے۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے شوہر سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو ان کے پاس ایک گینتی دیکھی اورپوچھا: ام سلیم! یہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا:اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں اس کا پیٹ چاک کر دوں گی۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! دیکھئے، ام سلیم کیا کہہ رہی ہے؟

وضاحت:
فوائد: … اس باب میں بیان ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے۔ وہاں قیلولہ کرتے اور ام سلیم رضی اللہ عنہ گھر پر موجود نہ بھی ہوتیں تو ان کے بستر پر آرام فرماتے۔ بعض احادیث میں ام حرام کے گھر جانے کا ذکر بھی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہ اور ام حرام رضی اللہ عنہ یہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضاعی خالہ تھیں۔ یہ قباء میں ایک ہی گھر میں رہتی تھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11990
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 1809، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12058 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12081»