الفتح الربانی
— صحابیات
باب مَا جَاءَ فِي الرُّمَبْصَاءِ أَوِ الْعُمَيْصَاءِ أَمْ سُلَيْمٍ وَالدةِ انَسِ بْنِ مَالِكِ وَزَوْجَةِ أَبِي طَلْحَةَ الأنصاري رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا باب: سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی ماں، سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی بیوی سیدہ ام سلیم رمیصاء (یاغمیصائ) رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11987
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي بَيْتَ أُمِّ سُلَيْمٍ فَيَنَامُ عَلَى فِرَاشِهَا وَلَيْسَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ فِي بَيْتِهَا فَتَأْتِي فَتَجِدُهُ نَائِمًا وَكَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ إِذَا نَامَ ذَفَّ عَرَقًا فَتَأْخُذُ عَرَقَهُ بِقُطْنَةٍ فِي قَارُورَةٍ فَتَجْعَلُهُ فِي مِسْكِهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے اور ان کے بستر پر سو جاتے تھے،جبکہ بسا اوقات ایسے ہوتا کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا گھر پر موجود نہیں ہوتی تھیں، جب وہ آتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سویا ہواپاتیں تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سوتے تو آپ کو اتنا پسینہ آتا کہ بہنے لگتا۔ وہ آپ کے پسینہ کو روئی سے جمع کرکے اسے شیشی میں نچوڑ لیتیں اور پھر اسے اپنی کستوری میں ملا لیتیں۔