الفتح الربانی
— صحابیات
باب مَا جَاءَ فِي الرُّمَبْصَاءِ أَوِ الْعُمَيْصَاءِ أَمْ سُلَيْمٍ وَالدةِ انَسِ بْنِ مَالِكِ وَزَوْجَةِ أَبِي طَلْحَةَ الأنصاري رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا باب: سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی ماں، سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی بیوی سیدہ ام سلیم رمیصاء (یاغمیصائ) رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقِيلُ عِنْدَ أُمِّ سُلَيْمٍ وَكَانَ مِنْ أَكْثَرِ النَّاسِ عَرَقًا فَاتَّخَذَتْ لَهُ نِطَعًا فَكَانَ يَقِيلُ عَلَيْهِ وَخَطَّتْ بَيْنَ رِجْلَيْهِ خَطًّا فَكَانَتْ تُنَشِّفُ الْعَرَقَ فَتَأْخُذُهُ فَقَالَ ”مَا هَذَا يَا أُمَّ سُلَيْمٍ“ فَقَالَتْ عَرَقُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَجْعَلُهُ فِي طِيبِي فَدَعَا لَهَا بِدُعَاءٍ حَسَنٍسیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں جا کر قیلولہ کیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسینہ بہت زیادہ آتا تھا، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے چمڑے کا ایک بچھونا تیار کیا، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیلولہ کیا کرتے تھے۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے آپ کے پاؤں کے درمیان ایک لکیر سی بنا دی تھی۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پسینے کو نچوڑ کر جمع کر لیتی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا ! یہ کیا کر رہی ہو؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آپ کا پسینہ ہے، میں اسے اپنی خوشبو میں ملاؤں گی، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حق میں بہترین دعا فرمائی۔