حدیث نمبر: 11977
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقِيَ عُمَرُ أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّكُمْ سُبِقْتُمْ بِالْهِجْرَةِ وَنَحْنُ أَفْضَلُ مِنْكُمْ قَالَتْ كُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُ جَاهِلَكُمْ وَيَحْمِلُ رَاجِلَكُمْ وَفَرَرْنَا بِدِينِنَا فَقَالَتْ لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَتْ فَذَكَرَتْ مَا قَالَ لَهَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”بَلْ لَكُمُ الْهِجْرَةُ مَرَّتَيْنِ هِجْرَتُكُمْ إِلَى الْحَبَشَةِ وَهِجْرَتُكُمْ إِلَى الْمَدِينَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے ملاقات ہو گئی تو انھوں نے کہا: تم بڑے اچھے لوگ ہو، بس یہ بات ہے کہ لوگ تم سے پہلے ہجرت کر آئے ہیں اور ہم تم سے افضل ہیں۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے، تمہیں جس چیز کا علم نہ ہوتا، اللہ کے رسول تمہیں تعلیم دیتے اور تم میں سے جس کے پاس سواری نہ ہوتی، اللہ کے رسول اسے سواری عنایت کر دیتے اور ہم اپنے دین کو بچاتے ہوئے فرار ہوگئے تھے۔ بہرحال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا کر آپ سے ضرور اس بات کا ذکر کروں گی، چنانچہ انہوں نے جا کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ساری بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں دو ہجرتوں کا ثواب ملے گا، ایک حبشہ کی طرف اور ایک مدینہ کی طرف۔

وضاحت:
فوائد: … سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا، ام المومنین سیدہ میمونہ بنت الحارث کی مادری بہن ہیں اور یہ بہت سی صحابیات کی پدری،یا مادری،یا سگی بہن ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دار ارقم میں جانے سے پہلے انہوںنے اسلام قبول کیا اور سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کر گئیں اور وہیں عبداللہ، محمد اور عون کو جنم دیا۔ غزوۂ موتہ میں سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے، ان کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کیا، انھوں نے ان سے محمد نامی بچہ جنم دیا، ان کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کیا اور ان سے عون اور یحییٰ پیدا ہوئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11977
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4230، 4231،ومسلم: 2503، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19694 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19930»