الفتح الربانی
— صحابیات
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَسْمَاءِ بِنْتِ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقِيَ عُمَرُ أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّكُمْ سُبِقْتُمْ بِالْهِجْرَةِ وَنَحْنُ أَفْضَلُ مِنْكُمْ قَالَتْ كُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُ جَاهِلَكُمْ وَيَحْمِلُ رَاجِلَكُمْ وَفَرَرْنَا بِدِينِنَا فَقَالَتْ لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَتْ فَذَكَرَتْ مَا قَالَ لَهَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”بَلْ لَكُمُ الْهِجْرَةُ مَرَّتَيْنِ هِجْرَتُكُمْ إِلَى الْحَبَشَةِ وَهِجْرَتُكُمْ إِلَى الْمَدِينَةِ“سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے ملاقات ہو گئی تو انھوں نے کہا: تم بڑے اچھے لوگ ہو، بس یہ بات ہے کہ لوگ تم سے پہلے ہجرت کر آئے ہیں اور ہم تم سے افضل ہیں۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے، تمہیں جس چیز کا علم نہ ہوتا، اللہ کے رسول تمہیں تعلیم دیتے اور تم میں سے جس کے پاس سواری نہ ہوتی، اللہ کے رسول اسے سواری عنایت کر دیتے اور ہم اپنے دین کو بچاتے ہوئے فرار ہوگئے تھے۔ بہرحال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا کر آپ سے ضرور اس بات کا ذکر کروں گی، چنانچہ انہوں نے جا کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ساری بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں دو ہجرتوں کا ثواب ملے گا، ایک حبشہ کی طرف اور ایک مدینہ کی طرف۔