الفتح الربانی
— صحابیات
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَسْمَاءِ بِنْتِ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ دَخَلُوا عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ وَهِيَ تَحْتَهُ يَوْمَئِذٍ فَرَآهُمْ فَكَرِهَ ذَلِكَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَمْ أَرَ إِلَّا خَيْرًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَرَّأَهَا مِنْ ذَلِكَ“ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ ”لَا يَدْخُلَنَّ رَجُلٌ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا عَلَى مُغِيبَةٍ إِلَّا وَمَعَهُ رَجُلٌ أَوِ اثْنَانِ“سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو ہاشم کے کچھ لوگ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے، وہ ان دنوں ابو بکر رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں، وہ لوگ بیٹھے ہی تھے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آگئے، انہوں نے ان لوگوں کو اپنی اہلیہ کے ہاں دیکھا تو انہیں یہ بات ناگوار گزری۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس واقعہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا اور کہا کہ میں نے کوئی قابل اعتراض بات تو نہیں دیکھی بلکہ میں نے تو اچھی بات ہی دیکھی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اسماء کو ایسی باتوں سے محفوظ رکھا ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا: آج کے بعد کوئی آدمی اکیلا کسی ایسی خاتون کے ہاں نہ جائے، جس کا خاوند گھر پر نہ ہو، الایہ کہ اس کے ساتھ ایک دو آدمی اس کے ساتھ ہوں۔