حدیث نمبر: 11966
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”أَلَا مِنْ رَجُلٍ يَأْخُذُ بِمَا فَرَضَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ كَلِمَةً أَوْ كَلِمَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا أَوْ خَمْسًا فَيَجْعَلُهُنَّ فِي طَرَفِ رِدَائِهِ فَيَتَعَلَّمُهُنَّ وَيُعَلِّمُهُنَّ“ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”فَابْسُطْ ثَوْبَكَ“ قَالَ فَبَسَطْتُ ثَوْبِي فَحَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ ”ضُمَّ إِلَيْكَ“ فَضَمَمْتُ ثَوْبِي إِلَى صَدْرِي فَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا أَكُونَ نَسِيتُ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْهُ بَعْدُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو اللہ کے فرائض میں سے ایک، دو، تین، چار یا پانچ باتیں سن کر اپنی چادر کے پلو میں باندھ لے، پھر ان باتوں کا علم خود بھی حاصل کرے اور دوسروں کو بھی ان کی تعلیم دے؟ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس کام کے لیے میں حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنا کپڑا بچھاؤ۔ چنانچہ میں نے اپنا کپڑا بچھایا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ باتیں ارشاد فرمائیں اور پھر فرمایا: اس کپڑے کو سمیٹ لو۔ چنانچہ میں نے اپنے کپڑے کو سمیٹ کر اپنے سینےسے لگا لیا، مجھے امید ہے کہ اس کے بعد میں نے آپ سے جو بھی حدیث سنی، اسے بھولنے نہیں پاؤں گا۔

وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان برکتوں کا حصول صرف سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے حصے میں آ سکا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11966
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8409 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8390»