حدیث نمبر: 11962
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ فِي الطَّرِيقِ شِعْرًا يَا لَيْلَةً مِنْ طُولِهَا وَعَنَائِهَا عَلَى أَنَّهَا مِنْ دَارَةِ الْكُفْرِ نَجَّتِ قَالَ وَأَبَقَ مِنِّي غُلَامٌ لِي فِي الطَّرِيقِ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْتُهُ فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَهُ إِذْ طَلَعَ الْغُلَامُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَذَا غُلَامُكَ“ قُلْتُ هُوَ لِوَجْهِ اللَّهِ فَأَعْتَقْتُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آرہا تھا تو میں نے راستے میں یہ شعر کہا: یَالَیْلَۃً مِنْ طُولھا وَعَنَالِٔھا عَلٰی انّہا مِنْ دَارْۃِ الکُفْرِ نَجَّتٖ (تعجب ہےاسراتپرجواسقدرطویل اور پر مشقت ہے ہاں یہ فائدہ ضرور ہوا کہ اس نے مجھے دارالکفر سے نکال لیا) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: راستے میں میرا ایک غلام مجھ سے فرار ہو گیا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جا کر مسلمان ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کر لی، میں آپ کی خدمت میں ہی بیٹھا تھا کہ وہ غلام بھی آگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ابو ہریرہ! یہ ہے تمہارا غلام۔ میں نے عرض کیا:وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے، پھر انھوں نے اس کو آزاد کر دیا۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں، ان کے اور ان کے باپ کے نام کے تعین کے بارے میں تیس اقوال موجود ہیں، راجح قول کے مطابق ان کا نام عبد الرحمن بن صخر ہے، دورِ جاہلیت میں ان کا نام عبد شمس تھا، یہ مشرف باسلام تو پہلے ہو چکے تھے، البتہ غزوۂ خیبر والے سال مدینہ منورہ تشریف لائے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کے اشتیاق میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس خیبر پہنچ گئے، اس کے بعدیہ گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چمٹ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کی اور رات ہو یا دن، سفر ہو یا حضر، ہر ممکنہ صورت میں یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جدا نہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے افعال و اقوال کو نقل کرنے کی،یاد کرنے کی اور پھر یہ امانت امت تک پہنچانے کے لیے ازحد محنت اور مشقت کی،یہ اصحاب ِ صفہ صحابہ میں سے ایک تھے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا امتیازی وصف یہ تھا کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے معجزانہ انداز میں قوت ِ حافظہ حاصل کی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث کو یاد کرنے کی ذمہ داری اٹھا لی، دواوین احادیث میں سب سے زیادہ احادیث سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں، ان سے مروی احادیث کی تعداد (۵۳۷۴) ہے، یہ شرف کسی اور صحابی کے حصے میں نہ آ سکا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے تقریباً اسی سال عمر پائی اور (۵۷) سن ہجری کی فوت ہوئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11962
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2531، 4393 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7845 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7832»