حدیث نمبر: 11959
عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اللَّهُمَّ اجْعَلْ عُبَيْدًا أَبَا عَامِرٍ فَوْقَ أَكْثَرِ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“ قَالَ فَقُتِلَ عُبَيْدٌ يَوْمَ أَوْطَاسٍ وَقَتَلَ أَبُو مُوسَى قَاتِلَ عُبَيْدٍ قَالَ قَالَ أَبُو وَائِلٍ وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَجْمَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَ قَاتِلِ عُبَيْدٍ وَبَيْنَ أَبِي مُوسَى فِي النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یااللہ! اپنے بندے عبید ابو عامر کو قیامت کے دن اکثر لوگوں سے بلند مرتبہ پر فائز فرمانا۔ سیدنا عبید رضی اللہ عنہ غزوۂ اوطاس میں شہید ہوئے تھے اور سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبید رضی اللہ عنہ کے قاتل کو قتل کرکے جہنم رسید کیا تھا۔ راویٔ حدیث عاصم کہتے ہیں: میرے شیخ ابو وائل نے بیان کیا: مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ عبید رضی اللہ عنہ کے قاتل اور سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو جہنم میں اکٹھے نہیں کرے گا۔

وضاحت:
فوائد: … فَقُتِلَ عُبَیْدٌ کی ترکیب سے معلوم ہو رہا ہے کہ سیدنا ابو عامر عبید رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کے بعد شہید ہوئے تھے، جبکہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ پہلے شہید ہوئے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی وسیت کے مطابق ان کے لیے دعا کی، دیکھیں حدیث نمبر (۱۱۹۴۱)اور اس کے فوائد میں مذکورہ حدیث۔ آخری جملے میں دراصل سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ کے حق میں شہادت دی گئی ہے کہ وہ جہنم میں نہیں جائیں گے۔ (ان شاء اللہ تعالی)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11959
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19693 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19929»