حدیث نمبر: 11957
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قُلْتُ لِرَجُلٍ هَلُمَّ فَلْنَجْعَلْ يَوْمَنَا هَذَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَوَاللَّهِ لَكَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَاهِدٌ هَذَا الْيَوْمَ فَخَطَبَ فَقَالَ ”وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ هَلُمَّ فَلْنَجْعَلْ يَوْمَنَا هَذَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ“ فَمَا زَالَ يَقُولُهَا حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنَّ الْأَرْضَ سَاخَتْ بِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے ایک آدمی سے کہا:آؤ ہم اپنا آج کا یہ دن اللہ تعالیٰ کے لیے مختص کر یں، اللہ کی قسم یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ہمارے ساتھ موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطاب کیا اور کہا: بعض لوگ ایسے بھی ہیں، جو دوسروں سے کہتے ہیں کہ آؤ ہم اپنا آج کا یہ دن اللہ تعالیٰ کے لیے مختص کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات اس قدر تکرار سے ارشاد فرمائی کہ میں نے تمنا کی کاش کہ زمین مجھے اپنے اندر دھنسا لے۔

وضاحت:
فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ کی تمنا سے پتہ چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی اس بات اور عمل کو پسند نہیںکیا، ممکن ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ زندگی کا ہر دن اس اعتدال سے گزارا جائے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر بھی کیا جائے، اس کے احکام بھی پورے کیے جائیں اور دنیا کی ضرورتیں بھی پوری کی جائیں۔
حدیث ضعیف ہونے کی وجہ سے کسی توجیہ کی ضرورت نہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11957
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھام من روي عنه ثابت، اخرجه البزار: 3577، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19756 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19994»