الفتح الربانی
— کنیت
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِى وَاسْمُهُ عَبْدُ بنُ قَيْس رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: سیدنا ابو موسی عبداللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قُلْتُ لِرَجُلٍ هَلُمَّ فَلْنَجْعَلْ يَوْمَنَا هَذَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَوَاللَّهِ لَكَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَاهِدٌ هَذَا الْيَوْمَ فَخَطَبَ فَقَالَ ”وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ هَلُمَّ فَلْنَجْعَلْ يَوْمَنَا هَذَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ“ فَمَا زَالَ يَقُولُهَا حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنَّ الْأَرْضَ سَاخَتْ بِيسیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے ایک آدمی سے کہا:آؤ ہم اپنا آج کا یہ دن اللہ تعالیٰ کے لیے مختص کر یں، اللہ کی قسم یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ہمارے ساتھ موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطاب کیا اور کہا: بعض لوگ ایسے بھی ہیں، جو دوسروں سے کہتے ہیں کہ آؤ ہم اپنا آج کا یہ دن اللہ تعالیٰ کے لیے مختص کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات اس قدر تکرار سے ارشاد فرمائی کہ میں نے تمنا کی کاش کہ زمین مجھے اپنے اندر دھنسا لے۔
حدیث ضعیف ہونے کی وجہ سے کسی توجیہ کی ضرورت نہیں۔