حدیث نمبر: 11954
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ يَقْرَأُ فَقَالَ ”لَقَدْ أُعْطِيَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن قیس یعنی ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو تلاوت کرتے ہوئے سنا اورفرمایا: اسے تو اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کی سی خوش الحانی عطا کی گئی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … سیدناابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ایک جلیل القدر صحابی ہیں، ان کا اصل نام عبداللہ بن قیس بن سلیم بن حضار ہے، کتب حدیث میں عام طور پر ان کا تذکرہ کنیت سے ہوا ہے، ہجرت سے قبل مکہ مکرمہ جا کر دولت اسلام سے بہرہ ور ہوئے، پھر حبشہ کی طرف ہجرت کی، بعد ازاں حبشہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا شرف حاصل ہوا، آپ کی حبشہ سے مدینہ منورہ آمد فتح خیبر کے بعد ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں زبید، عدن اور سواحل یمن پر عامل مقرر کیا تھا اور امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بھی انہیں کوفہ، بصرہ، اہواز اور اصبہان وغیرہ کے علاقوں کا عامل مقرر کیا تھا، تریسٹھ سال کی عمر میں (۴۴) سن ہجری میں ان کا انتقال ہوا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11954
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، اخرجه النسائي: 2/180 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8820 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8806»