حدیث نمبر: 11946
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ الْعَاقِبُ وَالسَّيِّدُ صَاحِبَا نَجْرَانَ قَالَ وَأَرَادَا أَنْ يُلَاعِنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ لَا تُلَاعِنْهُ فَوَاللَّهِ لَئِنْ كَانَ نَبِيًّا فَلَعَنَّا قَالَ خَلَفٌ فَلَاعَنَّا لَا نُفْلِحُ نَحْنُ وَلَا عَقِبُنَا أَبَدًا قَالَ فَأَتَيَاهُ فَقَالَا لَا نُلَاعِنُكَ وَلَكِنَّا نُعْطِيكَ مَا سَأَلْتَ فَابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا أَمِينًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَأَبْعَثَنَّ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ حَقَّ أَمِينٍ“ قَالَ فَاسْتَشْرَفَ لَهَا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ قَالَ فَقَالَ ”قُمْ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ“ قَالَ فَلَمَّا قَفَا قَالَ ”هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نجران کے حاکم کے دونمائندے عاقب اور سید آئے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ملاعنت یعنی مباہلہ کرنا چاہتے تھے، لیکن ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا:اس محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے مباہلہ نہ کرو۔ اللہ کی قسم! اگر یہ سچا نبی ہوا اور ہم نے ان سے مباہلہ کر لیا تو نہ ہم فلاح پائیں گے اور نہ ہمارے بعد ہماری نسل فلاح پاسکے گی۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: ہم آپ سے مباہلہ نہیں کرتے،البتہ ہم آپ کا مطالبہ پورا کر دیتے ہیں، آپ کسی امین آدمی کو ہمارے ساتھ روانہ کریں تاکہ ہم صلح نامہ کے مطابق طے شدہ مال اسے ادا کر دیں،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے ساتھ ایک ایسے آدمی کو بھیجوں گا جو صحیح معنوں میں امین اور دیانت دار ہے۔ یہ سن کر سب صحابہ نے نظریں اٹھا اٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیطرف دیکھا (کہ یہ منصب کس خوش نصیب کو ملتا ہے) پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو عبیدہ! اٹھو۔ جب سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ روانہ ہوگئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ اس امت کا امین اور قابل اعتماد آدمی ہے۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گزشتہ حدیث کی مانند روایت بیان کی ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11946
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه ابن ماجه: 136، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3930 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3930»